Avatar
Deutsche Welle News source @dw.com · Bonn 🇩🇪· 21h

In Hungary's recent national election, opposition leader Peter Marki-Zay's party achieved a significant victory over Prime Minister Viktor Orban's Fidesz party, raising hopes for improved relations with the European Union after Orban's long tenure marked by conflicts with EU values. #HungaryElections #EUPolitics #DemocraticChange

Link Preview
www.dw.com
ہنگری کے الیکشن میں موجور کی فتح پر یورپی یونین کے رہنما خوش
ہنگری میں اتوار کے روز ہوئے قومی الیکشن میں اپوزیشن رہنما پیٹر موجور کی پارٹی نے وزیر اعظم وکٹور اوربان کی جماعت کو ہرا کر زبردست کامیابی حاصل کر لی۔ ان انتخابی نتائج پر پوری یورپی یونین میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ہنگری میں وزیر اعظم اوربان کی شکست کے اثرات صدر ٹرمپ پر بھی ستائیس ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے رکن اور مشرقی یورپی ملک ہنگری میں گزشتہ 16 برسوں سے دائیں بازو کی سخت گیر سوچ رکھنے والے عوامیت پسند وزیر اعظم وکٹور اوربان اور ان کی فیدیس پارٹی کی حکومت تھی۔ کل اتوار 12 اپریل کو اس مقابلتاﹰ چھوٹے یورپی ملک میں یونے والے قومی انتخابات کے اب تک سامنے آنے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق 45 سالہ وکیل اور سابق سفارت کار پیٹر موجور کی جماعت ٹیسو نے ان انتخابات میں اتنی شاندار کامیابی حاصل کر لی کہ اسے بوڈاپیسٹ میں ملکی پارلیمان کی 199 سیٹوں میں سے دو تہائی سے بھی پانچ زیادہ نشستیں حاصل ہو سکیں گی۔ ان انتخابی نتائج کی اہم ترین بات یہ ہے کہ وکٹور اوربان کے اقتدار کا خاتمہ یقینی بات ہے اور اب بوڈاپیسٹ کے برسلز میں یورپی یونین کے ساتھ تعلقات دوبارہ بہتر ہونے لگیں گے، جو اوربان کے طویل دور اقتدار میں مسلسل کئی طرح کی مشکلات کا شکار رہے تھے۔ یورپی یونین کے 'سب سے کرپٹ ملک' ہنگری میں عوامی غصہ بڑھتا ہوا ساتھ ہی اب موجور کی قیادت میں اگلی ملکی حکومت کو اتنی زیادہ سیاسی اور پارلیمانی طاقت حاصل ہو گی کہ وہ آسانی سے مختلف شعبوں میں قانون سازی حتیٰ کہ اگر چاہے تو آئینی ترمیم تک بھی کر سکے گی۔ ہنگری مں قومی الیکشن کے نتائج پر یورپی یونین اور یورپی کمیشن کی برسلز میں قیادت نے بھی سکون کا سانس لیا ہے جبکہ بہت سے رکن ممالک کے قومی رہنماؤں نے بھی پیٹر موجور کی ٹیسو پارٹی کی متاثر کن کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ہنگری کے انتخابات پر یورپی مبصرین کے سنگین خدشات بوڈاپیسٹ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اوربان اور ان کی سیاسی ترجیحات، جو تقریباﹰ ہمیشہ ہی یورپی یونین کی سیاسی اور اقتصادی ترجیحات سے متصادم رہی تھیں، بالعموم پورے یورپی براعظم میں امن اور خوشحالی کے لیے خطرہ سمجھی جاتی تھیں۔ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ''آج یورپ بھی جیت گیا اور یورپی اقدار بھی۔'' اسی طرح پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے ہنگری کے انتخابی نتائج پر اپنے ردعمل میں کہا، ''(ہم سب) پھر متحد۔ عزیز دوستو، یہ شاندار فتح ہے۔'' پیٹر موجور نے کل کی عوامی رائے دہی سے قبل اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر وہ اور ان کی جماعت جیت گئے اور وہ وزیر اعظم بن گئے، تو ان کی پہلی ترجیح ہنگری کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کی تعمیر نو کرتے ہوئے انہیں دوبارہ معمول پر لانا ہو گا۔ پراگ سے بوڈاپیسٹ: ووٹرز کے بڑے تحفظات ہجرت اور یوکرینی جنگ اتوار کی رات ووٹوں کی گنتی میں نتائج کا رجحان واضح ہو جانے کے بعد بہت سے یورپی رہنماؤں نے پیٹر موجور کو کالیں کر کے انہیں مبارک باد دینے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ ان میں فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں، نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رُٹے، جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرس اور یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئر لاین بھی شامل تھیں۔ جرمن سیاسی پارٹی اے ایف ڈی کی رہنما ہنگری کے دورے پر اس کے علاوہ پیٹر موجور کو ان کی کامیابی پر آن لائن مبارک باد دینے والوں میں برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن، سویڈن کے سربراہ حکومت اُلف کرسٹرسن، یورپی پارلیمان کی اسپیکر روبیرٹا میٹسولا، ڈنمارک کی خاتون وزیر اعظم میٹے فریڈیرکسن اور یوریی یونین کی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا سمیت بہت سے دیگر یورپی اور عالمی رہنما بھی شامل تھے۔ ادارت: جاوید اختر.