Avatar
BBC News source @bbc.com · London 🇬🇧· 5h ·

In Antalya, Turkey, tourism industry professionals report that this year's Easter holidays have been impacted by the ongoing conflict resulting from U.S. and Israeli attacks on Iran, leading to a significant decline of about 60% in international bookings, especially from Europe and the UK, amid growing concerns over safety and economic uncertainty in the region. #TourismImpact #MiddleEastConflict #TravelConfidence #TR #IL #US #IR #GB #CY #GR #ES #IT #HR #ME

Link Preview
www.bbc.com
امریکہ، ایران جنگ نے ترکی کو کیسے متاثر کیا؟
جنوبی ترکی کے شہر انطالیہ میں سیاحت کی صنعت سے منسلک افراد کا کہنا ہے اس سال ایسٹر کی چھٹیاں 'ہر سال کی طرح نہیں تھیں۔' عام طور پر ایسٹر کی چھٹیوں کے دوران یہاں یورپی سیاحوں کا رش دیکھنے میں آتا ہے۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ نے عالمی معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور سیاحت کی صنعت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ بی بی سی ترکی سے بات کرتے ہوئے ترکش ٹریول ایجنسیز ایسوسی ایشن کے بورڈ آف ڈائیریکٹرز کے رکن ایلف یورال کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم کے علاقے میں بین الاقوامی بکنگ میں تقریباً 60 فیصد کمی آئی ہے۔ اگرچہ سات اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد سے صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے لیکن ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے لیے بکنگز، خاص طور پر برطانیہ اور یورپ سے، پچھلے سیزن کے مقابلے میں کم ہیں۔ برطانوی کنسلٹنسی فرم آکسفورڈ اکنامکس کے جائزے بھی ان مشاہدات سے میل کھاتے ہیں، جن کے مطابق جنگ کے باعث خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سیاحت کا شعبہ کافی متاثر ہوا ہے۔ کمپنی کے ایک سینیئر ماہر اقتصادیات جیسی سمتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے خطے میں غیر یقینی کی صورتحال اور سلامتی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں اور انھیں توقع ہے کہ سیاحت کے شعبے میں خدمات کی طلب کم رہے گی۔ فرم کے اندازوں کے مطابق کچھ سیاح ترکی کا رخ کرنے کے بجائے بحیرہ روم اور شمالی افریقی ممالک کی طرف جا سکتے ہیں۔ سمتھ کا کہنا ہے کہ خاص طور پر ترکی کے حوالے سے سیاحوں کی تعداد میں کمی کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی آنے والے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق مشرق وسطیٰ سے ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس مانگ میں کمی کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ترکی تنازعات والے علاقوں سے قریب ہے۔ 'اگرچہ متبادل جگہیں موجود ہیں لیکن وہ کافی نہیں۔' سیاحت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے سیاحت کی صنعت متاثر ہونا شروع ہو چکی ہے۔ کارپوریٹ دنیا کو سیاحتی خدمات پیش کرنے والی کمپنیوں گلوب میٹس اور اولیوا مائس کے شریک بانی حسین کرٹ کہتے ہیں: مشرقی بحیرہ اسود کے علاقے میں آنے والے سیاحوں مِں سب سے بڑی تعداد مشرقِ وسطیٰ کے سیاحوں کی تھی اور یہی خطہ جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ جنگ کے دوران امریکہ، برطانیہ اور متعدد یورپی ممالک کی جانب سے ترکی سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے نئی سفری وارننگ جاری کی گئی ہیں۔ ان انتباہات میں مشرقی اور جنوب مشرقی ترکی کے کچھ علاقوں کو غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرٹ کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک ان انتباہات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اس کی وجہ سے بکنگز میں کمی واقع ہوئی ہیں۔ کرٹ جو کہ ترک سیاحتی ترقیاتی ایجنسی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن بھی ہیں نے پیش گوئی کی ہے کہ بکنگز میں 30 سے 40 فیصد کمی آ سکتی ہے۔مارچ کے وسط میں کچھ یورپی ٹریول کمپنیوں نے بتایا تھا کہ ایران جنگ کے باعث اس سال موسمِ گرما میں مشرقی بحیرہ روم کے علاقوں ترکی، قبرص اور یونان کا دورہ کرنے کا ارادہ کرنے والے صارفین اب سپین، اٹلی اور کروشیا جیسے مغربی مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔ لنڈا ہل ملر 20 سال سے سکاٹ لینڈ میں قائم ایل اے ایچ ٹریول چلا رہی ہیں۔ بی بی سی ترکی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ 'کووڈ 19 سے بھی بدتر' سیزن ہے۔ 'ہمارے فون ہی نہیں بج رہے؛ ہمیں کوئی درخواستیں ہی موصول نہیں ہو رہیں۔' دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کرنے والے ملر کے مطابق اصل مسئلہ صارفین کے اعتماد کی کمی کا ہے۔ 'چاہے مغربی بحیرہ روم ہو یا مشرقی، کوئی بھی کہیں جانا نہیں چاہتا۔' ان کے مطابق لوگ غیر یقینی کی صورتحال سے ڈرتے ہیں۔ 'وہ اپنے روزگار کے حوالے سے سے پریشان ہیں۔ ایسی افواہیں بھی ہیں کہ جیٹ ایندھن کی کمی کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے کافی غیر یقینی کی صورتحال اور سوالیہ نشان ہیں۔' استنبول میں بھی ہوٹل بکنگ کا ڈیٹا منفی رجحان کو ظاہر کر رہا ہے۔ عالمی ہوٹلوں کے ڈیٹا پر نظر رکھنے والی امریکی کمپنی لائٹ ہاؤس انٹیلی جنس کی جانب سے بی بی سی کے ساتھ شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے پہلے نصف میں استنبول کے ہوٹلوں میں بکنگ کی شرح 47.